بنگلورو،25؍فروری (ایس او نیوز) موقع ملنے پر دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے کا خواب دیکھ رہے سدارامیا کو لوک سبھا انتخابات کی شکل میں ایک اور چیلنج کا سامنا ہے ۔ سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس لجس لیچرس پارٹی کے قائد سدارامیا کو دہلی روانہ کرتے ہوئے ریاستی سیاست میں ان کی وجہ سے پیدا ہورہی الجھن کو ختم کرنے کا پلا ن چند قائدین نے بنایا ہے ۔اس پیش رفت سے ہائی کمان کو آگا ہ کردیا گیا ہے ۔ سدارامیا باگل کوٹ کے بادامی اسمبلی حلقہ سے اسمبلی انتخابات کا سامنا کرنے کی وجہ سے دیگر چند سیٹوں پر کامیابی ملنا ممکن ہوا ہے ۔ اب انہیں کانگریس اورجے ڈی ایس کی طرف سے مشترکہ امیدوار بناتے ہوئے کوپل لوک سبھا حلقہ سے میدان میں اتارنے کی حکمت عملی طے کی جارہی ہے ۔ کوپل میں سدارامیا کی جیت سے نہ صرف کانگریس کا فائدہ ہوگا ۔ بلکہ بی جے پی کو ناقابل تلافی نقصان بھی ہوگا ۔ اس کے علاوہ آس پاس کے تین چار حلقوں میں بھی اس کامثبت اثر پڑ سکتا ہے۔ اس طرح کی باتیں ہائی کمان کے علم میں لائی گئی ہیں۔ دودن قبل ریاستی کانگریس نگران کار کے سی وینو گوپال بنگلورآئے ہوئے تھے۔ان سے سدارامیا کے تعلق سے گزارش کی گئی ہے۔